Showing posts with label Heart Touching Stories. Show all posts
Showing posts with label Heart Touching Stories. Show all posts

Tuesday, 11 May 2021

وہ شکل سے شریف گھر کی بیٹی لگ رہی تھی || عورت برائے فروخت

😢!!!...عورت برائے فروخت 👸 خدا جانے وہ کیوں جسم بیچنے پہ مجبور تھی👨‍👩‍👧‍👧

آپ چاہے مجھے 500 کم دے دینا لیکن میرے ساتھ بُرا نہ کرنا پلیز 😢۔


وہ شکل سے شریف گھر کی بیٹی لگ رہی تھی میں پاس گیا 
میرے قریب ہو کر بولی 
چلو گے صاحب 
میں نے پوچھا کتنے پیسے لو گی 
کہنے لگی آپ کتنے دیں گے
میں نے اس کی نیلی سی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا 
وہ بے بس سی تھی میں نے بولا آؤ کار میں بیٹھو  
وہ ڈر رہی تھی 
کہنے لگی کتنے آدمی ہو میں نے کہا  ڈرو  نہیں 
میں اکیلا ہی ہوں
وہ خاموش بیٹھی رہی 
پھر کہنے لگی آپ مجھے سگریٹ سے اذیت تو نہیں دو گے نا 
میں مُسکرایا بالکل بھی نہیں 
پھر اس نے ایک لمبی سانس بھری 
آپ میرے ساتھ کوئی ظلم تو نہیں کریں گے نا 
آپ چاہے مجھے 500 کم دے دینا لیکن میرے ساتھ بُرا  نہ کرنا پلیز 
وہ بہت خوبصورت تھی معصومیت اس کی باتوں سے ٹپک رہی تھی 
پھر بھی خدا جانے وہ کیوں جسم بیچنے پہ مجبور تھی 
وہ نہیں جانتی تھی میں کون  ہوں 

میں نے پوچھا کھانا کھایا ہے کہنے لگی نہیں 
میں نے ہوٹل کے سامنے کار روکی ہوٹل والا مجھے جانتا تھا 
اس نے جلدی سے کھانا پیک کیا مجھے دیا 
میں کار میں بیٹھ گیا آ کر 
میں اپنے آفس کی طرف چل دیا 
چوکیدار نے دروازہ کھولا میں نے کار پارک کی 
رات کے 11 بج رہے تھے سب اپنا اپنا کام کر رہے تھے
وہ مسلسل میری طرف دیکھے جا رہی تھی 
میں نے کھانا پلیٹ میں ڈالا 
اسے کہا ہاتھ دھو لو 
وہ کہنے لگی میں نے نہیں کھانا 
میں نے پیار سے کہا ڈرو نہیں کچھ نہیں ہو گا 
وہ ہاتھ دھو کر آئی 
میرے سامنے کرسی پہ بیٹھ گئی اور کھانا کھانے لگی 

جب کھانا کھا لیا تو کچھ کھانا بچ گیا کہنے لگی یہ میں گھر لے جا سکتی ہوں
میں مسکرایا بالکل بھی نہیں
وہ چُپ ہو گئی بُرقع اتارنے لگی میں نے کہا رُک جائیں 
میرے پاس آ کر بیٹھ جائیں 
وہ حیران تھی 
میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی جلدی سے اپنا کام کریں مجھے واپس چھوڑ آئیں 
میں نے کہا نہیں پوچھوں گا کیوں کرتی ہو ایسا 
کیوں بیچتی ہو جسم 
بس اتنا کہوں گا چھوڑ سکتی  ہو کیا یہ سب 
وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی آپ پاگل لگ رہیں مجھے 
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا 
ہاں پاگل ہی ہوں میں 
سب پاگل ہی سمجھتے ہیں مجھے 
وہ کہنے لگی اگر کچھ کرنا  نہیں  ہے تو مجھے واپس چھوڑ کر آؤ 
میں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا 
پھر پرس سے 10000 نکالے اس کے ہاتھ پہ رکھے 
وہ حیران تھی کہنے لگی میں نے نہیں لینے 
آپ کیوں دے رہے ہیں یہ پیسے مجھے 
میں نے اس کے چہرے پہ ایک تھکن محسوس کی تھی 
وہ اپنے آنسو روکے بیٹھی تھی 
بار بار کہہ رہی تھی مجھے بس واپس چھوڑ کر آؤ 
مجھے ڈر لگ رہا ہے
میں  نے اسے یقین دلایا ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے 
اچھا بتاؤ نا بہت درد دیا نا زندگی نے 
یہ سننا تھا 
اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں 
جیسے کوئی قیامت گر گئی ہو اس پہ 
میں سمجھ چکا تھا کوئی بہت بڑا درد لیئے گھوم رہی ہے دروازہ کھولا کانپتی آواز میں بولی مجھے چھوڑ کر آؤ واپس
میں نے اسے بیٹھنے کا کہا 
بتایا میرا نام .........ہے ڈرو نہیں 
خود کو محفوظ سمجھو 
اسے جب یقین ہو گیا پریشانی والی کوئی بات نہیں تو 
بتانے لگی 
شوہر مر گیا تین بیٹیاں ہیں 
سسرال والوں نے نکال دیا 
ماں باپ فوت ہو چکے ہیں بھائی کوئی ہے نہیں ماموں کے گھر آئی 
ماموں کے بیٹے نے میرے ساتھ زیادتی کی 
میں نے جب مامی کو بتایا تو سب نے مجھے غلط کہا 
مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا 
دور کے رشتہ دار نے ایک بڈھے سے میری شادی کروائی اس کے بھی بچے تھے 
اس کے بچوں نے مجھے بہت ذلیل کیا 
پھر وہ شوہر بھی فوت ہو گیا 
بیٹیوں کو لیئے در بدر لیئے بھٹکنے  لگی 
  نہ چھت تھی نہ روٹی تھی 
بھوک افلاس تھی
سڑک پہ کھڑی تھی ایک صاحب آئے کہنے لگے ایک گھنٹے کے 5 ہزار دوں گا
نہ چاہتے ہوئے ماں کی ممتا حالات کی ستائی ہوئی کیا کرتی آخر چل دی 

اب ہر روز جسم بیچتی ہوں کرائے کا گھر لیا ہے بیٹیوں کو اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں 
کیا کروں بہت بار سوچا خود کشی کر لوں لیکن بیٹیوں کو دیکھ کر ہمت نہیں ہوتی 
وہ رو رہی تھی میں زمانے  کی بے حسی محسوس کر رہا تھا 
اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا ....... تمہارا بھائی ہے آج سے 
تم اپنی بیٹیوں کو لو اور میرے آفس کے اوپر والے ایک روم میں رہو
وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی 
کار میں بٹھایا اس کے گھر پہنچا 
بیٹیاں سوئی ہوئی تھیں بہت پیاری تھیں 
گود میں اٹھایا دل کو سکون ملا 
وہ مسلسل روئے جا رہی تھی 
مجھے کہنے لگی آپ فرشتے ہیں 
آپ کون ہیں 
میں اسے اپنے آفس لے آیا 
وہ دعائیں دینے لگی جھولی اٹھا کر نہ جانے کتنی دعائیں دیتی رہی میں نے اسے کہا جا کر سو جائیں 

اپنے آفس روم میں گیا میرے سامنے سے وہ چہرہ گزرا جو ایک لڑکی اپنے شوہر سے جھگڑا کررہی تھی 
اسے کہہ رہی تھی مجھے طلاق دو تم کو میری قدر ہی نہیں ہے وہ اپنا گھر جلا رہی تھی اپنی بے وقوفی کی وجہ سے 
وہ بیچاری کیا جانے زمانے کی تلخیاں کیا ہوتی ہیں 
زمانے کا ڈسنا کیا ہوتا ہے میں بتانا چاہتا تھا۔۔۔ اپنا گھر جان بوجھ کر اُجاڑنے والی لڑکیوں کو طلاقیں لینا آسان ہے اس کے بعد جینا موت ہے 
کبھی ساس کا رونا کبھی نند کا سیاپا کبھی جٹھانی سے لڑائی یہ ہر گھر کی بات ہے 
اس کا ہرگز مطلب طلاق لینا یا گھر اُجاڑنا  نہیں ہے کم عمری میں ہی میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں ہزاروں آنکھوں کے آنسو دیکھ کر 
اپنے گھروں کو آباد رکھو 
خدا کی قسم ایک وقت ایسا آتا ہے جب نا بھائی حال پوچھتے ہیں نا سگی بہنیں 
سب وقت کے ساتھ چہرے کے نقاب بدل لیتے ہیں 
...... ہر جگہ ہر کسی کو تھامنے کے لیئے کھڑا نہیں ملوں گا ہاں میری قلم شاید کسی کو بربادی سے پہلے بچا لے 
ہمسفر کیسا بھی ہے وہ تمہاری ڈھال ہے 
شادی کے بعد سگے بھائی سے خرچہ لینا بھی بھیگ مانگنے جیسا لگتا ہے 
میری باتیں وہ عورت سمجھ سکتی ہیں جس پہ ایسا کچھ گزرا ہے 
ہمسفر جیسا بھی ہے وہ تمہارا لباس ہے یاد رکھنا زمانے کے لیئے تم صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہو 
وہ زمانے گزرے مدت ہوئی جب رشتوں کا پاس رکھا جاتا تھا
اب رشتوں سے کھیلا جا سکتا ہے ہوس پوری کی جا سکتی ہے پھر پھینک دیا جاتا ہے 
ہاں قسمت میں لکھا ہم بدل نہیں سکتے لیکن قسمت خود لکھ بھی سکتے ہیں صبر برداشت اور جُھک کر 

نہ جانے کتنی عورتیں صرف اس لیئے گھر اُجاڑ لیتی ہیں کے اس کا شوہر اس کو ٹائم نہیں دیتا ہاں یہ شکوہ کرنا درست ہے لیکن کیا گارنٹی ہے اس کے بعد زندگی میں آنے والا اس سے بھی زیادہ بُرا  ہو 
صرف ایک زندگی ہے اس کو محبت پیار سمجھداری کے ساتھ گزار لو 
میں اس معاشرے کو معاشرہ نہیں کہتا بلکہ بدبودار سماج کہتا ہوں 
یہاں جگہ جگہ پہ لٹیرے کھڑے ہیں عزتوں کے خواہشوں کے بھرم کے بھروسے کے اعتبار کے

بس آخر پہ ایک بات کہوں گا 
اگر تم  کو پیٹ بھرنے کے لیئے چاردیواری سے باہر نہیں جانا پڑ رہا 
اگر تم کو جسم نہیں بیچنا پڑ رہا 
اگر تمہارے سر پہ چادر ہے 
اگر لوگ تمہارا سودا نہیں کرتے 
اگر لوگ تم کو وحشیہ نہیں کہتے 
اگر تمہارا دامن پاکیزہ ہے 
اگر تم رات کو محفوظ پناہ گاہ میں سوتی ہو تو 
نہ کرنا برباد اپنا  آشیانہ 
ورنہ روند دی جاؤ گی نوچ  لی جاؤ گی 
جو طلاق لیئے بیٹھی ہیں پوچھو ان سے 
وہ سوچ رہی ہوتی ہیں نہ جانے کتنے بچوں کے باپ کی ہمسفر بنوں گی 
نہ جانے وہ کیسا سلوک کرے گا 
اور پھر ساری زندگی یہ طعنہ سنتے گزر جاتی ہے اتنی ہی اچھی ہوتی تو طلاق کیوں لیتی 
خیر وہ لڑکی الحمداللہ محفوظ ہے لیکن وہ روتی ہے 
زمانے کی بے حسی پہ 
اور جانتے ہو کسی عورت  کی بربادی میں کہیں نہ کہیں مرد ہوتا ہے 
محبت کر کے چھوڑنے والا دعویدار ہو یا نکاح کر کے طلاق دینے والا بدبخت 
عورت خدا کی قسم میرے معاشرے کی زنجیروں میں جکڑی  ہوئی ایک قیدی ہے 
کبھی باپ کی پگڑی پہ لٹ گئی تو کبھی ساس کے زہر آلود لہجے پہ 
کبھی شوہر کی انا پہ خاک ہو گئی تو کبھی اولاد کی وجہ سے 
مرد اگر سمجھ جائیں میری اس تحریر کو تو شاید میرا معاشرہ بدل جائے 
ہاں کچھ عورتیں ہوتی ہیں بازارو جن کو جتنی بھی عزت دے دو وہ عزت کی چادر سے زیادہ بازار کی رونق بننا پسند کرتی ہیں پھر ایسی بدبخت عورتیں ایک بدبودار معاشرے کو جنم دیتی ہیں
😢😢

آگر کہانی اچھی لگےتو-کمنٹس- ضرور کریں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, #UrduStories, Girls Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Wife Stories, Women Stories, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Mother Stories, Ashfaq Ahmed ki Kahani, Bachoon ki Kahani, Real Stories, Professor Stories, University Story

Sunday, 4 October 2020

یہ دیسی 🐔 مُرغی کتنے کی بیچ رہے ہو۔۔۔؟ || پالتو مُرغی

🤔!!!....بچے نے پہلے مُرغی کی طرف اور بعد میں بھائی کی طرف دیکھا👶

جب میں نے جیب سے بٹوا نکال کر پیسے دے کر مُرغی لی تو ساتھ چھوٹا بچہ رو😭 پڑا۔

آج میں جب بازار جا رہاتھا تو راستے میں ان بچوں کو دیکھا جن کے ہاتھ میں ایک دیسی🐔مُرغی تھی۔ میں نے گاڑی کو روک کر کہا کہ یہ دیسی مرغی کتنے کی بیچ رہے ہو۔۔۔؟ ان میں سے بڑے لڑکے نے کہا  کہ 500 روپے میں۔

 جب میں نے جیب سے بٹوا نکال کر پیسے دے کر مُرغی لی تو ساتھ چھوٹا بچہ رو😭 پڑا۔

 میں نے کہا کہ بیٹا کیوں رو رہے ہو...؟ تو اس کے بڑے  بھائی نے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہے میں حیران رہ گیا اور دل❤️ میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔

میں نے اس چھوٹے بچے کو کہا کہ کیا بات ہے اس نے رو رو کر پہلے مُرغی کی طرف اور بعد میں بھائی کی طرف دیکھا، میں نے اس کے بڑے بھائی سے پوچھا کیا بات ہے صاف صاف بتاؤ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہنے لگا کہ اس نے اس مُرغی کو بہت چھوٹا سا پالا تھا اور خوب انڈے🥚 بھی دیتی تھی اب میں مجبوری میں اس کو بیچ رہا ہوں۔

میں نے کہا کہ آپکے والد زندہ ہیں، اس نے کہا کہ نہیں اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ماں اور ان ایک بھائی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے میری ماں سخت بیمار ہے انکا علاج💊 کرنے کے لیے میں نے یہ مُرغی بیچنی ہے۔

.یہ بات سُن کر میرے ہاتھ اور پاؤں کانپنے لگے اور آنکھوں سے آنسو😭 بہنے لگے
قسم خدا کی اس طرح کا منظر میں نے اپنے زندگی میں پہلےکھبی بھی نہیں دیکھا. یا اللہ تمام غرباء  کی غیبی مدد ونصرت فرما دیجئے...🙏آمین

آگر کہانی اچھی لگےتو-کمنٹس- ضرور کریں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Chota Bhai aur Murghi, Palto Murghi, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, #UrduStories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Mian Bewi ki Kahani, Father and Son Stories, Friendship Stories, Husband & Wife Stories, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Arab Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani, Bachoon ki Kahani, Real Stories, Murghi ki Kahani

Wednesday, 19 August 2020

باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں...!!!

🥳!!!....اب تو بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی🤪

.جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا


ایک شخص کا ایک بیٹا تھا۔۔۔
روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا کہاں تھے...؟
تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا۔

ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج ہم آپ کے دوست سے ملنا چاہتے ہیں۔
بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت...؟
ابھی رات کے دوبجے ہیں۔ کل چلتے ہیں۔

نہیں ابھی چلتے ہیں۔
آپ کے دوست کا تو پتہ چلے۔
باپ نے ابھی پہ زور دیتے ہوئے کہا۔

جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا۔
بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے جو اس کے دوست کا باپ تھا آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے کہا کہ اپنے دوست سے ملنے آیا ہے۔

اس وقت، مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا۔
چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے۔
مگر بہت دیر گزرنے کے بعد بھی یہی جواب آیا کہ صبح کو آجانا، ابھی سونے دو۔

اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگر آنا تو درکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا۔

باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں۔
جس کا نام خیر دین ہے۔

،دور سفر کرتے اذانوں سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا
مگر جواب ندارد، بالآخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ میں الله ڈنو، مگر پھر بھی دروازہ ساکت اور کوئی حرکت نہیں۔

اب تو بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی۔

،لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی، اور دروازے کی زنجیر اور کنڈی کھولنے کی آواز آئی
ایک بوڑھا شخص برآمد ہوا جس نے لپٹ کر اپنے دوست کو گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست، بہت معذرت، مجھے دیر اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد میرا دروازہ رات گئے کھٹکھٹایا تو مجھے لگا کہ کسی مصیبت میں ہو۔
،اس لیے جمع پیسے نکالے کہ شاید پیسوں کی ضرورت ہے
،پھر بیٹےکو اٹھایا کہ شاید بندے کی ضرورت ہے
،پھر سوچا شاید فیصلے کےلیے پگ کی ضرورت ہو تو اسے بھی لایا ہوں
اب سب کچھ سامنے ہے۔
پہلے بتاؤ کہ کس چیز کی ضرورت ہے؟

یہ سن کر بیٹے کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ابا جی کتنا سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں ہوتا جو رت جگوں میں ساتھ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر حق دوستی نبھانے آجائے۔

آج بھی کئی نوجوان ایسی دوستیوں پہ اپنے والدین کو ناراض کرتے ہیں، باپ کے سامنے اکڑجاتے ہیں
ذرا دل تھام کر سوچیےکہ آپ کے حلقہ احباب اور دوستوں کا شمار ان میں سے کس قسم میں ہوتا ہے؟

😢…😢

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Purana Zamana, Naya Zamana, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Old Time vs New Time, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Baap aur Betay ki Kahani, Father and Son Stories, Friendship, Friendship Stories, Old Friendship, New Friendship, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Arab Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani, Beti ki Kahani, Bevi ki Kahani, Baap ki Kahani, Shohar ki Kahani, Father Stories, Daughter Stories, Real Stories

Thursday, 2 April 2020

کرکٹ کی کہانِی محمد یوسف کی زبانی || دل کو چُھو لینے والی تحریر

🥳!!....میں نے میچ میں ظہیر کی لاج رکھی اور سنچری اسکور کی🤪

آپ نے میری مدد اس وقت کی جب آپ کے پاس کچھ نہیں تھا جبکہ....؟؟

یہ وہ محلہ ہے جہاں میں پلا بڑھا - بچوں کے ساتھ جرابوں کی بال بنا کر دھوبی گھاٹ پہ کپڑے دھونے والے ڈنڈے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا (شاید اس لیے میری بیک لفٹ اونچی تھی) - پہلی بار کرکٹ کلب میں داخلہ اس شرط پہ ملا کہ میں سب سے پہلے آ کر وکٹ اور گراؤنڈ میں جھاڑو لگایا کروں گا - اس کے علاوہ سینئر پلیئرز کے لیے نیٹ نصب کرنے کی ذمےداری بھی میری ہی تھی۔

یہ جو بھائی اس تصویر میں نظر آ رہے ہیں ان کا نام ظہیر ہے - یہ وہ شخص ہے جو ہمارے کلب کا کپتان تھا - ظہیر نے کلب انتظامیہ سے لڑ کر مجھے ٹیم میں کھلانے کی کوشش کی تھی - جب کلب انتظامیہ مجھے کھلانے پہ آمادہ نا ہوئی تو ظہیر نے خود کو ڈراپ کر لیا اور اپنی جگہ مجھے چانس دے دیا - یہی نہیں بلکہ ظہیر نے میچ کے لیے مجھے اپنی کٹ بھی دے دی - میں نے اس دن ریلوے کالونی کی درزی کی اس دکان سے چھٹی کر لی تھی جہاں میں کام سیکھنے جایا کرتا تھا - میں نے میچ میں ظہیر کی لاج رکھی اور سنچری اسکور کی اور اس دن کے بعد سے کلب انتظامیہ نے کبھی مجھے میچ سے ڈراپ نہیں کیا۔

ظہیر کچھ عرصہ پہلے کینسر کے شکار ہو گیا تھا مگر اب الحمدلله صحتیاب ہو کر واپس آ چکا ہے - ظہیر نے صحت یاب ہونے کے بعد مجھے فون کر کے خوش خبری دی تو میں ظہیر سے ملنے چلا آیا - ظہیر کہتا ہے کہ یوسف تو نے میرے علاج پہ لاکھوں روپے خرچ کر دئیے میرے بچے بھی تیرے غلام رہیں گے۔

میں نے صرف اتنا جواب دیا ' ظہیر بھائی میں آپ جتنا امیر آج تک نہیں بن سکا کیوں کہ آپ نے میری مدد اس وقت کی جب آپ کے پاس کچھ نہیں تھا جبکہ میں نے آپ کی مدد اس وقت کی جب میرے پاس سب کچھ تھا'۔

(کرکٹر محمد یوسف کے پیج سے منقول)

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Muhammad Yousaf, Yousuf Yuhana, Cricketers Stories, Sports Stories, Batsman Story, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Khel aur Khilari, Cricketer Muhammad Yousaf, #UrduStories, #RealStories, #LoveStories

Saturday, 14 September 2019

ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی

یہ تحریر پڑھتے ہوئے میری آنکھوں میں 😭آنسو😭 آ گئے ہیں

ایک طالب علم کی دل کو چُھو لینے والی کہانی

میں ایک گھر کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اچانک مجھے گھر کے اندر سے ایک دس سالہ بچے کے رونے کی آواز آئی۔ آواز میں اتنا درد تھا کہ مجھے مجبوراً گھر میں داخل ہو کر معلوم کرنا پڑا کہ یہ دس سالہ بچہ کیوں رو رہا ہے۔ اندر داخل ہو کر میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رہی ہو جبکہ خود بھی روتی ہو۔۔۔۔۔۔

اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ہے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور ہم بہت غریب بھی ہیں۔ میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ہوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ہوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ہے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ہے۔ جاتے ہوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ہے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ہے۔ میں نے بچے اور اس کی ماں کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔

ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رہا ہے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو رہا تھا کہ چکر کیا ہے۔ میں اس بچے کو چوری چوری فالو کرنے لگا۔ جب اس کی جھولی سبزی سے بھر گئی تو وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر اونچی اونچی آوازیں لگا کر اسے بیچنے لگا۔ منہ پر مٹی گندی وردی اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ ایسا دوکاندار زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔۔۔

دیکھتے دیکھتے اچانک ایک آدمی اپنی دوکان سے اٹھا جس کی دوکان کے سامنے اس بچے نے ننھی سی دکان لگائی تھی۔ اس شخص نے آتے ہی ایک زور دار پاؤں مار کر اس ننھی سی دکان کو ایک ہی جھٹکے میں ساری سڑک پر پھیلا دیا اور بازو سے پکڑ کر اس بچے کو بھی اُٹھا کر دھکا دے دیا۔ ننھا دکاندار آنکھوں میں آنسو لیے دوبارہ اپنی سبزی کو اکٹھا کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اپنی سبزی کسی دوسری دکان کے سامنے ڈرتے ڈرتے لگا لی۔ بھلا ہو اس شخص کا جس کی دکان کے سامنے اب اس نے اپنی ننھی دکان لگائی اس شخص نے اس بچے کو کچھ نہیں کہا۔ تھوڑی سی سبزی تھی جلد ہی فروخت ہو گئی۔ اور وہ بچہ اُٹھا اور بازار میں ایک کپڑے والی دکان میں داخل ہوا اور دکان دار کو وہ پیسے دیکر دکان میں پڑا اپنا سکول بیگ اٹھایا اور بنا کچھ کہے سکول کی جانب چل دیا۔

میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جب وہ بچہ سکول گیا تو ایک گھنٹہ دیر ہو چکی تھی۔ جس پر اس کے استاد نے ڈنڈے سے اسے خوب مارا۔ میں نے جلدی سے جا کر استاد کو منع کیا کہ یتیم بچہ ہے اسے مت مارو۔ استاد فرمانے لگے کہ سر یہ روزانہ ایک گھنٹہ دیر سے آتا ہے۔ میں روزانہ اسے سزا دیتا ہوں کہ ڈر سے سکول ٹائم پر آئے اور کئی بار میں اس کے گھر بھی پیغام دے چکا ہوں۔ بچہ مار کھانے کے بعد کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے استاد کا موبائل نمبر لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ گھر جاکر معلوم ہوا کہ میں جو سبزی لینے گیا تھا وہ تو بھول ہی گیا ہوں۔

حسب معمول بچے نے سکول سے گھر آکر ماں سے ایک بار پھر مار کھائی ھو گی۔ ساری رات میرا سر چکراتا رہا۔

اگلے دن صبح کی نماز ادا کی اور فوراً بچے کے استاد کو کال کی کہ منڈی ٹائم ہر حالت میں منڈی پہنچے۔ جس پر مجھے مثبت جواب ملا۔ سورج نکلا اور بچے کا سکول جانے کا وقت ہوا اور بچہ گھر سے سیدھا منڈی اپنی ننھی دکان کا بندوبست کرنے نکلا۔ میں نے اس کے گھر جا کر اس کی والدہ کو کہا کہ بہن میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں آپ کا بیٹا سکول کیوں دیر سے جاتا ہے۔ وہ فوراً میرے ساتھ منہ میں یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ آج اس لڑکے کی میرے ہاتھوں خیر نہیں۔ چھوڑوں گی نہیں اسے آج۔ منڈی میں لڑکے کا استاد بھی آچکا تھا۔ ہم تینوں نے منڈی کی تین مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور ننھی دکان والے کو چھپ کر دیکھنے لگے۔ حسب معمول آج بھی اسے کافی لوگوں سے جھڑکیں لینی پڑیں اور آخر کار وہ لڑکا اپنی سبزی فروخت کر کے کپڑے والی دکان کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔

اچانک میری نظر اس کی ماں پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی درد بھری سسکیاں لے کر زاروقطار رو رہی تھی اور میں نے فوراً اس کے استاد کی طرف دیکھا تو بہت شدت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔ دونوں کے رونے میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے کسی مظلوم پر بہت ظلم کیا ہو اور آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہو۔

اس کی ماں روتے روتے گھر چلی گئی اور استاد بھی سسکیاں لیتے ہوئے سکول چلا گیا۔

حسب معمول بچے نے دکان دار کو پیسے دیے اور آج اس کو دکان دار نے ایک لیڈی سوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج سوٹ کے سارے پیسے پورے ہوگئے ہیں۔ اپنا سوٹ لے لو۔ بچے نے اس سوٹ کو پکڑ کر سکول بیگ میں رکھا اور سکول چلا گیا۔ آج بھی ایک گھنٹہ لیٹ تھا وہ سیدھا استاد کے پاس گیا اور بیگ ڈیسک پر رکھ کر مار کھانے کے لیے پوزیشن سنبھال لی اور ہاتھ آگے بڑھا دیے کہ استاد ڈنڈے سے اس کو مار لے۔

استاد کرسی سے اٹھا اور فوراً بچے کو گلے لگا کر اس قدر زور سے رویا کہ میں بھی دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر استاد کو چپ کرایا اور بچے سے پوچھا کہ یہ جو بیگ میں سوٹ ہے وہ کس کے لیے ہے۔ بچے نے جواب دیا کہ میری ماں امیر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرنے جاتی ہے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس جسم کو مکمل ڈھانپنے والا کوئ سوٹ نہیں ہے اس لیے میں نے اپنی ماں کے لیے یہ سوٹ خریدا ہے۔ یہ سوٹ اب گھر لے جا کر ماں کو دو گے؟؟؟ میں نے بچے سے سوال پوچھا ۔۔۔۔ جواب نے میرے اور اس کے استاد کے پیروں کے نیچے سی زمین ہی نکال دی۔۔

بچے نے جواب دیا، نہیں انکل جی چھٹی کے بعد میں اسے درزی کو سلائی کے لیے دے دوں گا اور روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے سلائی دوں گا جب سلائی کے پیسے پورے ہوجائیں گئے تب میں اسے اپنی ماں کو دوں گا۔۔۔

استاد اور میں یہ سوچ کر روتے جا رہے تھے کہ ابھی اس معصوم کو اور منڈی جانا پڑے گا، اور لوگوں سے دھکے کھانے پڑیں گے اور ننھی دکان لگانی پڑے گی۔۔۔

!آخر کب تک غریبوں کے بچے ننھی دکانیں لگاتے رہیں گے۔ آخر کب تک۔۔۔
کب تک ہم اپنے جیسے ہی انسانوں کو ان کے جائز حقوق کے بھی غاصب بنے رہیں گے اور ان کے حقوق کی تباہی لاتے رہیں گے۔

Tags: Heart Touching Stories, Student Stories, Talib Ilm ki Kahani, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Mother Stories, Maan ki Kahani, Story of a Mom, Story of Son