Showing posts with label Real Stories. Show all posts
Showing posts with label Real Stories. Show all posts

Sunday, 4 October 2020

یہ دیسی 🐔 مُرغی کتنے کی بیچ رہے ہو۔۔۔؟ || پالتو مُرغی

🤔!!!....بچے نے پہلے مُرغی کی طرف اور بعد میں بھائی کی طرف دیکھا👶

جب میں نے جیب سے بٹوا نکال کر پیسے دے کر مُرغی لی تو ساتھ چھوٹا بچہ رو😭 پڑا۔

آج میں جب بازار جا رہاتھا تو راستے میں ان بچوں کو دیکھا جن کے ہاتھ میں ایک دیسی🐔مُرغی تھی۔ میں نے گاڑی کو روک کر کہا کہ یہ دیسی مرغی کتنے کی بیچ رہے ہو۔۔۔؟ ان میں سے بڑے لڑکے نے کہا  کہ 500 روپے میں۔

 جب میں نے جیب سے بٹوا نکال کر پیسے دے کر مُرغی لی تو ساتھ چھوٹا بچہ رو😭 پڑا۔

 میں نے کہا کہ بیٹا کیوں رو رہے ہو...؟ تو اس کے بڑے  بھائی نے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہے میں حیران رہ گیا اور دل❤️ میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔

میں نے اس چھوٹے بچے کو کہا کہ کیا بات ہے اس نے رو رو کر پہلے مُرغی کی طرف اور بعد میں بھائی کی طرف دیکھا، میں نے اس کے بڑے بھائی سے پوچھا کیا بات ہے صاف صاف بتاؤ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہنے لگا کہ اس نے اس مُرغی کو بہت چھوٹا سا پالا تھا اور خوب انڈے🥚 بھی دیتی تھی اب میں مجبوری میں اس کو بیچ رہا ہوں۔

میں نے کہا کہ آپکے والد زندہ ہیں، اس نے کہا کہ نہیں اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ماں اور ان ایک بھائی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے میری ماں سخت بیمار ہے انکا علاج💊 کرنے کے لیے میں نے یہ مُرغی بیچنی ہے۔

.یہ بات سُن کر میرے ہاتھ اور پاؤں کانپنے لگے اور آنکھوں سے آنسو😭 بہنے لگے
قسم خدا کی اس طرح کا منظر میں نے اپنے زندگی میں پہلےکھبی بھی نہیں دیکھا. یا اللہ تمام غرباء  کی غیبی مدد ونصرت فرما دیجئے...🙏آمین

آگر کہانی اچھی لگےتو-کمنٹس- ضرور کریں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Chota Bhai aur Murghi, Palto Murghi, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, #UrduStories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Mian Bewi ki Kahani, Father and Son Stories, Friendship Stories, Husband & Wife Stories, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Arab Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani, Bachoon ki Kahani, Real Stories, Murghi ki Kahani

Thursday, 2 April 2020

کرکٹ کی کہانِی محمد یوسف کی زبانی || دل کو چُھو لینے والی تحریر

🥳!!....میں نے میچ میں ظہیر کی لاج رکھی اور سنچری اسکور کی🤪

آپ نے میری مدد اس وقت کی جب آپ کے پاس کچھ نہیں تھا جبکہ....؟؟

یہ وہ محلہ ہے جہاں میں پلا بڑھا - بچوں کے ساتھ جرابوں کی بال بنا کر دھوبی گھاٹ پہ کپڑے دھونے والے ڈنڈے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا (شاید اس لیے میری بیک لفٹ اونچی تھی) - پہلی بار کرکٹ کلب میں داخلہ اس شرط پہ ملا کہ میں سب سے پہلے آ کر وکٹ اور گراؤنڈ میں جھاڑو لگایا کروں گا - اس کے علاوہ سینئر پلیئرز کے لیے نیٹ نصب کرنے کی ذمےداری بھی میری ہی تھی۔

یہ جو بھائی اس تصویر میں نظر آ رہے ہیں ان کا نام ظہیر ہے - یہ وہ شخص ہے جو ہمارے کلب کا کپتان تھا - ظہیر نے کلب انتظامیہ سے لڑ کر مجھے ٹیم میں کھلانے کی کوشش کی تھی - جب کلب انتظامیہ مجھے کھلانے پہ آمادہ نا ہوئی تو ظہیر نے خود کو ڈراپ کر لیا اور اپنی جگہ مجھے چانس دے دیا - یہی نہیں بلکہ ظہیر نے میچ کے لیے مجھے اپنی کٹ بھی دے دی - میں نے اس دن ریلوے کالونی کی درزی کی اس دکان سے چھٹی کر لی تھی جہاں میں کام سیکھنے جایا کرتا تھا - میں نے میچ میں ظہیر کی لاج رکھی اور سنچری اسکور کی اور اس دن کے بعد سے کلب انتظامیہ نے کبھی مجھے میچ سے ڈراپ نہیں کیا۔

ظہیر کچھ عرصہ پہلے کینسر کے شکار ہو گیا تھا مگر اب الحمدلله صحتیاب ہو کر واپس آ چکا ہے - ظہیر نے صحت یاب ہونے کے بعد مجھے فون کر کے خوش خبری دی تو میں ظہیر سے ملنے چلا آیا - ظہیر کہتا ہے کہ یوسف تو نے میرے علاج پہ لاکھوں روپے خرچ کر دئیے میرے بچے بھی تیرے غلام رہیں گے۔

میں نے صرف اتنا جواب دیا ' ظہیر بھائی میں آپ جتنا امیر آج تک نہیں بن سکا کیوں کہ آپ نے میری مدد اس وقت کی جب آپ کے پاس کچھ نہیں تھا جبکہ میں نے آپ کی مدد اس وقت کی جب میرے پاس سب کچھ تھا'۔

(کرکٹر محمد یوسف کے پیج سے منقول)

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Muhammad Yousaf, Yousuf Yuhana, Cricketers Stories, Sports Stories, Batsman Story, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Khel aur Khilari, Cricketer Muhammad Yousaf, #UrduStories, #RealStories, #LoveStories

Friday, 13 December 2019

عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات || سچی کہانی

😥عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات😥

میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا

غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔

بس یہ بات کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی۔

اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی میں ہوا تھا اور غسل کے دوران جوں ہی غسل دینے والی عورت نے‏ مندرجہ بالا الفاظ کہے تو اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گیا۔ چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہاتھ کھینچتی تو میت گھسیٹتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا۔

جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا تھا، تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا، مروڑا، غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا!‏

دن گزرا ، رات ہوئی، دوسرا دن گزرا، پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھا، میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا

مولوی صاحبان، قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ غسال عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائے‏اور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے۔ مگر اس فیصلے کو غسال عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معذور نہیں کر سکتے لہذا ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں

دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت‏ دفنا دی جائے، مگر بے سود. اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ ہم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں۔

اس دور میں امام مالک قاضی تھے. بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے! امام مالک اس گھر پہنچے اور صورت حال بھانپ کر غسال عورت سے سوال کیا‏ "اے عورت! کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کہی؟"

غسال عورت نے سارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے غسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔

امام مالک نے سوال کیا "کیا تمھارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے‏لیے گواہ موجود ہیں" عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس گواہ موجود نہیں. امام مالک نے پھر پوچھا "کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تذکرہ کیا؟" جواب آیا "نہیں"

امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس غسال عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہذا ‏اس کو حد مقررہ کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں!

حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا۔

آج ہم تہمت لگاتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے. استغفراللہ

:حوالہ

بکھرے موتی،جلد اول
از مولانا محمد یوسف پالن پوری

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Aurat ki Izzat, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Women Respect, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Arab Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani

Wednesday, 11 December 2019

عورت کی عزت! || میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والی لڑکیوں کیلئے

"عورت کی عزت"

میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والی لڑکیوں کیلیے

اشفاق احمد مرحوم فرماتے ہیں کہ میں اپنی اہلیہ بانو کے ساتھ انگلینڈ کے ایک پارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں تبلیغی جماعت کے کچھ نوجوان چہل قدمی کرتے ہوئے پارک میں آئے، اتنے میں مغرب کا وقت ہوا تو انہوں نے وہیں جماعت شروع کردی۔

ان نوجوانوں کو نماز پڑھتا دیکھ کر کچھ نوجوان لڑکیوں کا ایک گروپ ان کے پاس پہنچا اور نماز مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ آؤ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان کیا بات ہوتی ہے۔
مرحوم فرماتے ہیں کہ ہم دونوں میاں بیوی وہاں چلے گئے اور نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔

نماز ختم ہوتے ہی ان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر جماعت کروانے والے نوجوان سے پوچھا کہ کیا تمھیں انگلش آتی ہے؟

تو نوجوان نے کہا کہ جی ہاں آتی ہے۔
تو لڑکی نے سوال کیا کہ تم نے ابھی یہ کیا عمل کیا؟
تو نوجوان نے بتایا کہ ہم نے اپنے رب کی عبادت کی ہے۔
تو لڑکی نے پوچھا آج تو اتوار نہیں ہے تو آج کیوں کی؟
تو نوجوان نے اسے بتایا کہ یہ ہم روز دن میں پانچ بار یہ عمل کرتے ہیں، تو لڑکی نے حیرت سے پوچھا کہ پھر باقی کام کیسے کرتے ہو تم؟
تو اس نوجوان نے اسے مکمل طریقہ سے پوری بات سمجھائی۔

بات ختم ہونے کے بعد لڑکی نے مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا تو نوجوان نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میں آپ کو چھو نہیں سکتا، یہ ہاتھ میری بیوی کی امانت ہے اور یہ صرف اسے ہی چھو سکتا ہے۔

یہ سن کر وہ لڑکی زمین پر لیٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور روتے ہوئے بولی کہ اے کاش! یورپ کا نوجوان بھی اسی طرح ہوتا تو آج ہم بھی کتنی خوش ہوتی۔
پھر بولی کہ واہ کتنی ہی خوش نصیب ہے وہ لڑکی جس کے تم شوہر ہو۔
یہ کہہ کر وہ لڑکی وہاں سے چلی گئی۔

اشفاق مرحوم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ"بانو! آج یہ نوجوان اپنے عمل سے وہ تبلیغ کر گیا جو کئی کتابیں لکھنے سے بھی نہیں ہوتی۔"

بے شک عزت اور سر بلندی اسلام میں ہی ھے۔
میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والی جاؤ یورپ میں عورت کا حال دیکھو اور خدا کا شکر ادا کرو تم ایک مسلمان پیدا ہوئی ہو

Tags: Heart Touching Stories, Aurat ki Izzat, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Women Respect, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Europian Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani

Friday, 13 September 2019

کسان - چوہا اور سانپ || کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا

خود تک محدود مت رہیے - دوسروں کا احساس کیجئے

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں، چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے۔

خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی۔

خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے۔

کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟

مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا۔

مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔

مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا۔

اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا۔

اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا۔

طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا، کبوتر ابھی برتن میں اُبل رہا تھا کہ خبر سُن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مُرغ کو ذبح کیا گیا۔

کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............۔

اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....۔

سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....۔

ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے۔

خود تک محدود مت رہیے، دوسروں کا احساس کیجئے۔

Tags: Kisan ki Kahani, Kisan Choha aur Sanp, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Bewi ki Mout, Husband Story, Wife Story, Animal Stories, Rat Story, Snake Story, Read Stories Online, Free Online Stories, Choha Dani, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories