Showing posts with label Husband Stories. Show all posts
Showing posts with label Husband Stories. Show all posts

Monday, 11 October 2021

مُسکراتی بیوی غصیلہ شوہر اور کڑوی چائے || نازک لڑکی

☕!!!...سبق آموز اور ہمارے معاشرے کا المیہ☕

--ایک تو چائے ایسی بنائی اوپر سے ہنس رہی ہو--


وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لئیے دروازے سے اندر آتی ہوئی بولی
...مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے

عینک کتاب پر رکھتے ہوئے میں نے پلٹ کر کہا ہاں! ہاں! کیوں نہیں بولو کیا بات ہے؟

وہ آہستہ سے چلتی ہوئی قریب والی کرسی پر آ بیٹھی اور چائے میز پر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔
چائے پی کر دیکھئیے نا کیسی بنی ہے؟؟

 اس سے پہلے کہ میں چائے پی کر بتاتا کہ کیسی بنی ہے میں نے اس بات کا جاننا زیادہ ضروری سمجھا جو وہ کہنا چاہتی تھی --- کیا بات ہے پہلے وہ تو بتا دو؟

ارے! پہلے چائے چکھ کر بتائیے کیسی بنی ہے، بات بھی بتا دونگی کونسا میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں۔

(میں نے اس کی بات پر مُسکرانے کی کوشش کی)
کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرا لیکن چائے میں کڑواہٹ اس قدر تھی کہ مجھے واپس تھوکنا پڑا اور چلاتے ہوئے پوچھا یہ کیا ہے؟ چائے بنانی نہیں آتی تمہیں؟ یہ کیسی چائے بنائی ہے اتنی کڑوی؟

وہ مُسکراتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی
(اس کا مُسکرانا میرے غصے میں اضافہ کر رہا تھا لیکن میں رُک گیا)
ایک تو چائے ایسی بنائی اوپر سے ہنس رہی ہو۔ آخر! چاہتی کیا ہو، تم؟
!!!...وہ مُسکراتی ہوئی پلٹی اور بولی... کچھ نہیں

بس اتنا بتانا تھا کہ آپ کا لہجہ اس چائے سے زیادہ کڑواہ ہے اگر آپ اس کڑوی چائے کا ایک گھونٹ حلق سے نہیں اتار سکے تو سوچیں کہ آپ کے لہجے کے ہزاروں کڑوے گھونٹ ایک نازک لڑکی کیسے روز سہہ لیتی ہے؟

کمرے کی سنسان خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ وہ چائے کا کپ لے کر دروازے سے نکل گئی۔ میں ایک زندہ لاش کی مانند نا جانے رات کے کس پہر تک یہی سوچ رہا تھا۔
اتنا کڑوا...!!! اتنی کڑواہٹ؟ کیا سچ میں...؟؟

😢😢

آگر کہانی اچھی لگےتو-کمنٹس- ضرور کریں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Story, Muskrati Bevi, Ghusila Shohar, Karwi Chaye, Bad Tea, Kadvi Chaye, Nazuk LarkiDil Ko Choo Lene Wali Tehreer, #UrduStories, Girls Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Wife Stories, Women Stories, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories

Monday, 24 May 2021

بیوی نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی || میکہ یا سُسرال

🚶!!!...شوہر ناراض ہو کر غصے میں گھر سے نکل گیا😡

کیا تم نے کھانا تیار کر لیا۔۔۔؟👩‍🍳 میرے گھر والے ایک گھنٹے بعد آ جائیں گے۔


ایک روز شوہر نے پرسکون ماحول میں اپنی بیوی سے کہا: بہت دن گزر گئے ہیں میں نے اپنے گھر والوں بہن بھائیوں اور ان کے بچوں سے ملاقات نہیں کی ہے۔ میں ان سب کو گھر پر جمع ہونے کی دعوت دے رہا ہوں اس لیے براہِ مہربانی تم کل دوپہر اچھا سا کھانا تیار کر لینا۔

بیوی نے گول مول انداز سے کہا: ان شاء اللہ خیر کا معاملہ ہو گا۔
شوہر بولا: تو پھر میں اپنے گھر والوں کو دعوت دے دوں گا۔

اگلی صبح شوہر اپنے کام پر چلا گیا اور دوپہر ایک بجے گهر واپس آیا۔ اس نے بیوی سے پوچھا۔۔۔
کیا تم نے کھانا تیار کر لیا۔۔۔؟ میرے گھر والے ایک گھنٹے بعد آ جائیں گے۔

بیوی نے کہا: نہیں میں نے ابھی نہیں پکایا کیوں کہ تمہارے گھر والے کوئی انجان لوگ تو ہیں نہیں لہٰذا جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ ہی کھا لیں گے۔

شوہر بولا: اللہ تم کو ہدایت دے ... تم نے مجھے کل ہی کیوں نہ بتایا کہ کھانا نہیں تیار کرو گی، وہ لوگ ایک گھنٹے بعد پہنچ جائیں گے پھر میں کیا کروں گا۔

بیوی نے کہا: ان کو فون کر کے معذرت کر لو ۔۔۔ اس میں ایسی کیا بات ہے وہ لوگ کوئی غیر تو نہیں آخر تمہارے گھر والے ہی تو ہیں۔

شوہر ناراض ہو کر غصے میں گھر سے نکل گیا۔
کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بیوی نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کے اپنے گھر والے، بہن بھائی اور ان کے بچے گھر میں داخل ہو رہے ہیں۔

بیوی کے باپ نے پوچھا: تمہار شوہر کہاں ہے۔۔۔؟
وہ بولی: کچھ دیر پہلے ہی باہر نکلے ہیں۔

باپ نے بیٹی سے کہا: تمہارے شوہر نے گزشتہ روز فون پر ہمیں آج دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دعوت دے کر خود گھر سے چلا جائے۔

یہ بات سُن کر بیوی پر تو گویا بجلی گر گئی۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ ملنے شروع کر دیے کیوں کہ گھر میں موجود کھانا اس کے اپنے گھر والوں کے لیے کسی طور لائق نہ تھا البتہ یقیناً اس کے شوہر کے گھر والوں کے لائق تھا۔

اس نے اپنے شوہر کو فون کیا اور پوچھا: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ دوپہر کے کھانے پر میرے گھر والوں کو دعوت دی ہے۔
شوہر بولا: میرے گھر والے ہوں یا تمہارے گھر والے ۔۔۔ فرق کیا پڑتا ہے۔

بیوی نے کہا: میں منت کر رہی ہوں کہ باہر سے کھانے کے لیے کوئی تیار چیز لے کر آجاؤ، گھر میں کچھ نہیں ہے۔

شوہر بولا: میں اس وقت گھر سے کافی دُور ہوں اور ویسے بھی یہ تمہارے گھر والے ہی تو ہیں کوئی غیر یا انجان تو نہیں۔ ان کو گھر میں موجود کھانا ہی کھلا دو جیسا کہ تم میرے گھر والوں کو کھلانا چاہتی تھیں... "تا کہ یہ تمہارے لیے ایک سبق بن جائے جس کے ذریعے تم میرے گھر والوں کا احترام سیکھ لو"۔

لوگوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم خود ان کی طرف سے اپنے ساتھ معاملہ پسند کرتے ہو۔۔۔۔۔

😢😢

آگر کہانی اچھی لگےتو-کمنٹس- ضرور کریں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, #UrduStories, Girls Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Wife Stories, Women Stories, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Mekay ki Kahani, Susrali, Meka ya Susral, Miyaan Bevi ki Kahani

Wednesday, 9 September 2020

اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی 🏃 میں اب بور ہو گئی ہوں

🤔!!!....میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے🏃

🥳...کپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کر میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ

Add caption
بیوی کو شادی کے چند سال بعد خیال آیا 🤔 کہ اگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے تو شوہر کیسا محسوس کرے گا؟

یہ خیال اس نے کاغذ پر لکھا✍️"اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی میں اب بور ہو گئی ہوں تمہارے ساتھ میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے

اس کاغذ کو اس نے میز پر رکھا🍂 اور جب شوہر کے آنے کا ٹائم ہوا تو اس کا رد عمل دیکھنے کے لئے بیڈ کے نیچے چھپ 🙇‍♂️ گئی

شوہر آیا اور اس نے میز پر رکھا کاغذ پڑھا👽. کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اس کاغذ پر کچھ لکھا✍️ پھر وہ خوشی کے مارے جھومنے لگا، گیت گانے لگا، رقص کرنے لگا اور کپڑے بدلنے لگا

پھر اس نے اپنے فون سے کسی کو فون لگایا اور کہا... آج میں آزاد ہو گیا🤲 شاید میری بیوقوف بیوی کو سمجھ آ گیا کہ وہ میرے لائق ہی نہیں تھی😄 لہذا آج وہ گھر سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی🧜‍♂️ اس لئے اب میں آزاد ہوں🥰 اور تم سے ملنے💍 کے لئے میں آ رہا ہوں. کپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کر میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ🤝

شوہر باہر نکل گیا🏃 آنسو بھری آنکھوں سے بیوی بیڈ کے نیچے سے نکلی😢 اور I...کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذ پر لکھی لائن پڑھی

...جس پر لکھا تھا
بیڈ کے نیچے سے پاؤں دکھائی دے رہے ہیں باولی
پارک کے قریب والی دکان سے بریڈ لے کے آ رہا ہوں
تب تک چائے☕️ بنا لینا

میری زندگی میں خوشیاں💦 تیرے آنے سے ہیں
آدھی تجھے ســــــــــتانے سے ہیں
آدھی تجھے مـــــــــــنانے سے ہیں
💧👏

آگر کہانی اچھی لگےتو-کمنٹس- ضرور کریں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Shaki Shohar, Nek Biwi, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Bad Kirdar Bevi, #UrduStories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Mian Bewi ki Kahani, Father and Son Stories, Friendship Stories, Husband & Wife Stories, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Arab Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani, Beti ki Kahani, Bevi ki Kahani, Baap ki Kahani, Shohar ki Kahani, Father Stories, Daughter Stories, Real Stories

Thursday, 20 August 2020

شک کرنے سے پہلے تحقیق کرو ❤ میاں بیوی کا پیار ❤

🥳!!!....خاوند کو شک ہوگیا کہ میری بیوی کیا کرنے باہر نکلی🤪

😢...لڑکی کا خاوند اور شک میں پڑ گیا اور سوچا کہ شائد نمبر ڈیلیٹ کیا ہوگا

ایک رات ایک لڑکی اپنے خاوند کے ساتھ چار پائی پر لیٹی ہوئی تھی، کہ آدھی رات اچانک وہ آرام کے ساتھ موبائل ہاتھ میں لیا اور باہر کمرے سے نکلی، اس کے خاوند کو شک ہوگیا کہ میری بیوی کیا کرنے باہر نکلی، تھوڑی دیر بعد اس کی بیوی واپس آکر آرام کے ساتھ اپنے خاوند کے ساتھ چار پائی پر لیٹ گئی۔

دوسری رات اس کے خاوند نے اپنا سیم کارڈ نکال کر اس کے موبائل میں ڈال دیا اور بیوی کا سیم کارڈ اپنے موبائل میں ڈالا۔

جب آدھی رات ہوگئی تو اس کی بیوی نے پھر سے آرام کے ساتھ موبائل اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گئی خاوند کو اور شک ہوگیا، اور انتظار کر رہا تھا کہ اب کوئی تو اس کے نمبر پر کال کریگا لیکن، کسی نے بھی کال نہیں کی اور اس کی بیوی واپس آکے لیٹ گئی جب خاوند نے اس کا موبائل چیک کیا تو اس میں کوئی بھی نہ کال آئی اور نہ ہی گئی۔
تو اس کا خاوند اور شک میں پڑ گیا اور سوچا کہ شائد نمبر ڈیلیٹ کیا ہوگا۔

...تیسری رات پھر ویسا ہی ہوا لڑکی کمرے سے باہر نکلی
پانچ منٹ بعد اس کا خاوند بھی چھپ چھپ کے اس کے پیچے گیا اور وہاں ایک سائیڈ میں جا کے بیٹھ گیا دیکنھے کیلئے کہ اس کی بیوی آخر کیا کرتی ہے۔

تو جب دیکھا اس کی بیوی نے گھر کے ایک کونے میں جائے نماز بچھائی اور موبائل کی روشنی جلا کر نماز میں مشغول تھی۔

جب سلام پھیرا تو دُعا کی کہ... یا اللہ اگر میری عمر میرے خاوند کی عمر سے زیادہ ہو تو میری آدھی عمر میرے خاوند کو دے دو۔۔۔۔۔
.میری یہ دُعا ہے کہ اللہ سب کو ایسے ہی بیوی دے
آمین

قصے کا مقصد یہ تھا کہ شک کرنے سے پہلے تحقیق کرو
جزاک اللہ

آگر قصہ اچھا لگےتو-کمنٹس- ضرور کریں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Shaki Shohar, Nek Biwi, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Bad Kirdar Bevi, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Mian Bewi ki Kahani, Father and Son Stories, Friendship Stories, Husband & Wife Stories, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Arab Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani, Beti ki Kahani, Bevi ki Kahani, Baap ki Kahani, Shohar ki Kahani, Father Stories, Daughter Stories, Real Stories

Wednesday, 5 February 2020

ہاتھ میرا جلا تھا اور کرب ان کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی || باپ، شوہر اور بیٹی

😥!!....اب مرہم بھی لگا رہے ہیں اور والدہ صاحبہ کی کلاس بھی😥

آپ اپنی بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھے ہیں اور بیوی کا درد...؟؟

!...مرد ، مرد میں بہت فرق ہوتا ہے
آج شام کی چائے بناتے ہوئے میرا ہاتھ جل گیا۔
آنکھوں میں آنسو جاری تھے۔
والد صاحب نے دیکھا تو ایک دم ہاتھ تھام لیا اور تڑپ تڑپ گئے پھر دوسرے ہاتھ سے چائے کی پیالی پرے کھسکائی اور فوراً کریم اٹھا لائے۔
اب مرہم بھی لگا رہے ہیں اور والدہ صاحبہ کی کلاس بھی۔
کیوں بھیجتی ہیں آخر اسے کچن میں ہزار بار کہا ہے کہ اس سے کوئی کام نہ کرایا کریں۔
اماں خود سکتے میں بیٹھی تھیں ہاتھ میرا جلا تھا اور کرب ان کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی میں۔
...کہنے لگیں
میں کہاں خوشی سے بھیجتی ہوں مگر کل کو اس کی شادی ہونی ہے لوگ کیا کہیں گے ماں نے کچھ بھی نہ سکھایا۔
وہ بہت دُکھی لہجے میں وضاحت دے رہی تھیں۔
ہاں تو کہتے رہیں لوگ جو ان کو کہنا ہے مگر اب یہ کچن میں نہیں جائے گی والد صاحب نے مجھے بے ساختہ گلے لگایا اور اماں کو وارن بھی کر دیا۔
مجھے خوش ہونا چاہیے تھا مگر میں نہیں ہوئی۔
میں بس اماں کے ہاتھ دیکھ رہی تھی جن کے انگوٹھے سبزیاں کاٹ کاٹ کر نشان زدہ ہو گئے تھے کتنی ہی بار اُن کا ہاتھ جلا تھا سیاہ داغ نما نشان موجود تھے۔
البتہ زخم مندمل ہو چکے تھے بلکہ ابھی ہفتہ پہلے چُھری سے شہادت کی انگلی پر اتنا بڑا کٹ لگ گیا تھا بہت خون بہا مگر انہوں نے پٹی بھی نہ باندھی کہ بس ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔
مگر
کچھ بھی تو ٹھیک نہیں تھا۔
میں والد صاحب کو بتانا چاہتی تھی۔
کہ
وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہیں ان کے ابا نہیں رہے تو کیا ہوا ان کے شوہر تو ماشاءاللہ حیات ہیں۔
آپ اپنی بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھے ہیں اور بیوی کا درد...؟؟
وہ کسے جا کر بتائے...؟؟
وہ کون محسوس کرے گا...؟؟
وہ کسی کی بیٹی نہیں ہیں کیا...؟؟
کاش۔۔۔
دنیا کے تمام مرد جس طرح اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے لیے حساس ہوتے ہیں بالکل اسی طرح بیوی کے لیے بھی فکرمند ہو جائیں تو کتنی ہی عورتیں حقیقتاً جی اٹھیں گی۔

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Aurat ki Izzat, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Women Respect, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Arab Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani, Beti ki Kahani, Bevi ki Kahani, Baap ki Kahani, Shohar ki Kahani, Father Stories, Daughter Stories

Saturday, 14 December 2019

اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی || میں اب بور ہو گئی ہوں

🥳بیوی کا اپنے شوہر کے نام خط🤪

میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے

بیوی کو شادی کے چند سال بعد خیال آیا کہ اگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے تو شوہر کیسا محسوس کرے گا۔ یہ خیال اس نے کاغذ پر کچھ اس طرح سے لکھا۔۔۔

"اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی
میں اب بور ہو گئی ہوں تمہارے ساتھ
میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے"

اس کاغذ کو اس نے میز پر رکھا اور جب شوہر کے آنے کا ٹائم ہوا تو اس کے رد عمل دیکھنے کے لئے بستر کے نیچے چھپ گئی۔ شوہر آیا اور اس نے میز پر رکھا کاغذ پڑھا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اس کاغذ پر کچھ لکھا۔ پھر وہ خوشی کے مارے جھومنے لگا، گیت گانے لگا، رقص کرنے لگا اور کپڑے بدلنے لگا۔ پھر اس نے اپنے فون سے کسی کو فون لگایا اور کہا۔۔۔

"آج میں آزاد ہو گیا
شاید میری بیوقوف بیوی کو سمجھ آ گیا
کہ وہ میرے لائق ہی نہیں تھی
لہٰذا آج وہ گھر سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی
اس لئے اب میں آزاد ہوں
اور تم سے ملنے کے لئے میں آ رہا ہوں
کپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کے
میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ"

شوہر باہر چلا گیا
آنسو بھری آنکھوں سے بیوی بستر کے نیچے سے نکلی اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذ پر لکھی لائن پڑھی جس پر لکھا تھا۔۔۔

"بیڈ کے نیچے سے پاؤں دکھائی دے رہے ہیں باولی
پارک کے قریب والی دکان سے بریڈ لے کے آ رہا ہوں
تب تک چائے بنا لینا
میری زندگی میں خوشی تیرے آنے سے ہے
آدھی تجھے ستانے سے ہے
آدھی تجھے منانے سے ہے"

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Aurat ki Izzat, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Women Respect, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Wife, Story of Husband, Husband Wife Love

Wednesday, 11 December 2019

دلہن بنی بیٹھی میری بیوی نے کہا کہ خبردار مجھے ہاتھ مت لگانا

😥ایک دوست کی زبانی ۔۔۔😥

جس کے عشق میں وہ پاگل تھی اُس نے اُس کو اپنایا ہی نہیں


وہ ایک عجیب سی رات تھی ۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں کیا کروں کیا نہ کروں۔

شادی کی پہلی رات تھی اور دلہن بنی بیٹھی میری بیوی نے کہا کہ خبردار مجھے ہاتھ مت لگانا میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔ یہ زبردستی کی شادی ہوئی ہے۔ اور یاد رکھو تم کچھ بھی کر لو میری محبت نہ حاصل کر پاؤ گے۔ نہ میں تمہیں چاہونگی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
میں حیران و پریشان پاگلوں کی طرح اسے دیکھنے لگا اور سوچنے لگا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اٹھا اور وضو کیا اور نماز کے لئے چلا گیا۔ اور اپنے اللہ سے ذکر کیا کہ یا ربا یہ کیسا امتحاں ہے؟

مجھے ڈر تھا بہت زیادہ ڈر۔ معاشرے کا ڈر خاندان والوں کا ڈر۔ میں ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں اور ایسی اونچ نیچ پر ہمارے ہاں عزت کا جلوس نکل جاتا۔ مختلف سوچیں آ جا رہی تھیں کہ اگر یہ صبح گھر گئی اور واپس نہ آئی تو میری عزت کا کیا ہو گا۔ کیا پتہ یہ اپنے گھر میں یہ ہی نہ کہہ دے کہ یہ نامرد ہے اس سے شادی ختم کرواؤ۔

اک بار تو سوچا کہ زبردستی کرتا ہوں۔ گناہ نہیں میرے نکاح میں ہے مگر میرا دل نہیں مانا۔ میں نے اس سے بات کرنا چاہی مگر مجھے گوارہ نہ ہوا کہ میں اس عورت کی منت کروں جس نے مجھے یوں ٹھکرا دیا۔

اللہ تعالی سے شکوے شکائتیں کرتا کرتا سو گیا۔۔۔

اگر اسے کسی اور سے محبت تھی تو نکاح کے لئے ہاں ہی نہ کرتی یا مجھے ہی بتا دیتی میں اس سے خود رشتہ ختم کر دیتا بات شادی تک بڑھتی ہی نا۔ میری زندگی برباد تو نہ ہوتی۔ میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا آدمی شادی پر ساری جمع پونجی لگا چکا تھا۔
خیر
صبح وہ اپنے گھر چلی گئی کوئی بات نہیں ہوئی۔ تین دن تک کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔ تین دن بعد اس کی امی کی کال آئی کہ بیٹا تم آئے نہیں اپنی دلہن کو لینے تو میں لینے چلا گیا۔ میں نے وہاں بھی کوئی بات نہیں کی۔

ہم واپس گھر آگئے۔ میری بیوی میرے سامنے تو نہیں البتہ باہر جا کر یا گھر کی چھت پر جا کر ہر رات کو فون پر کسی سے باتیں کرتی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا تک نہیں کہ وہ کس سے باتیں کرتی کون ہے وہ۔ بس ایک بار پوچھا تھا کہ اسے طلاق چاہیے؟ اس نے کہا نہیں۔

اس کا فون پر جو عشق تھا اس کا مجھے کوئی مطلب نہیں تھا۔ پانچ ماہ ایسے ہی گزر گئے۔ میں کام سے تھکا ہارا رات میں گھر آتا کھانا باہر سے کھا آتا۔ اور جب بھی گھر آتا وہ فون پر ہی باتیں کر رہی ہوتی۔

ایک دن اس نے پوچھا ایک بات پوچھوں، میں نے کہا پوچھ لو۔ اس نے کہا کیا آپ کو مجھے دیکھ کر طلب نہیں ہوتی؟ میں نے کہا شادی سے پہلے بھی تو کنٹرول ہی تھا تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ اب بھی نہیں ہو سکے گا؟ مگر اس رات بات کچھ اور تھی۔ میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔

فون میرے دوست کا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تمہاری بیوی کسی اور مرد کے ساتھ فلانے ہوٹل پر بیٹھی ہے۔ مجھے پہلے تو یقین نہ آیا لیکن جب اپنی بیوی کو گھر نہ پایا تو بے حد غصہ آیا اتنا کہ مجھے اپنا دماغ پھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ میں نے اس کی عزت رکھی کسی کو کچھ نہ بتایا پر اس نے میری عزت نہ رکھی۔

میں ہوٹل کی طرف چل دیا۔ خود کو پرسکون رکھا ۔ وہاں اس کو کسی غیر مرد کے ساتھ بیٹھا دیکھا تو آواز دی اور کہا کہ چلو گھر چلو۔ وہ چپ چاپ گھر آگئی ۔ گھر لا کر اسے میں نے انتہائی زور دار تھپڑ مارا کہ میری انگلیاں اس کے منہ پر چھپ سی گئیں۔ اور اس کو بولا اب تم اپنے گھر دفعہ ہو جاؤ آج سے میری طرف سے آزاد ہو جب تمہیں طلاق چاہیے ہو تو کہہ دینا۔مگر میرے ساتھ میرے گھر میں تم ہرگز نہیں رہ سکتی۔

وہ عورت یعنی میری بیوی آج بھی اپنے میکے گھر میں ہے۔ طلاق نہیں مانگی اس نے ۔
اور ہاں
جس کے عشق میں وہ پاگل تھی اس نے اس کو اپنایا ہی نہیں اور اپنا مطلب نکال کر بھاگ گیا۔ایک دن روتے ہوئے اسکی کال آئی تھی کہ مجھے اپنے نام سے محروم نہ کرنا بس۔ بھلے ہی مجھے اپنے پاس جگہ نہ دو لیکن طلاق مت دینا۔ بس ایک آخری خواہش پوری کر دو۔
میں نے اسکی خواہیش کا احترام کیا اسکو طلاق نہیں دی۔

اس کے بعد مجھے تین سے چار سال لگے خود کو نارمل انسان بنانے میں عورت پر یقین کرنے میں کہ ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔
پھر آخر میں نے دوسری عورت سے شادی کر لی۔

اب الحمداللہ میرے 3 بچے ہیں میری یہ دوسری والی بیوی بہت ہی نیک نکلی۔ پتا نہیں وہ دو تین سال جو میں نے حوصلے سے گزارے اس کی وجہ سےاللہ نے انعام کی صورت میں دیا کہ میں اب تھوڑی سی بھی ہمدردی کو بہت بڑی بات سمجھنے لگا تھا ۔

میں زرا سا بھی پریشان ہو جاؤں تو میری بیوی کی نیندیں اڑ جاتی ہیں اس کو مجھے سے عشق کی حد تک پیار ہے اور بے انتہا عشق۔ میں ذرا کام سے دیر سے آؤں یا کچھ میسج نہ کروں تو پریشان ہو جاتی سائے کی طرح آگے پیچھے آگے پیچھے۔ بعض دفعہ تو میں جھنجلا سا جاتا ہوں اور اس سے جھگڑ پڑتا ہوں کہ اللہ کی بندی میں دودھ پیتا بچہ نہیں۔
ایک وہ پہلی عورت ایک یہ عورت
میں تو وہی تھا وہی ہوں۔

میری پہلے والی بیوی سنا ہے کہ اب پاگل ہو چکی ہے۔ میرے نام لکھ لکھ کر چومتی رہتی ہے۔ اور گلیوں میں پھرتی رہتی ہے۔ اسے اپنی ہوش ہی نہیں رہی اب ایک دو دفعہ زہر بھی کھا لیا مگر بچ گئی۔

لوگ اب بھی کہتے ہیں میں ظالم ہوں اس پر ظلم اتنے کیے کہ وہ پاگل ہو گئی ہے
اب میں کیا کہوں لوگوں سے؟

حرام محبت کا مقدر ہمیشہ ذلت ہی ہوتی ہے۔ یارانے عاشقی معشوقی لگا کر توقع کرنا کہ یہ ٹھیک ہوگا۔ ذلت ہی ملتی ہے۔

میری بچیوں بہنوں بیٹیو یاد رکھو
حرام محبت کا مقدر ذلت ہے بس ...!!!
اگر میرے کسی بہن بھایٓی کو میری بات بُری لگی ہو تو دل سے معذرت کرتا ہوں😢

اس طرح کے مزید اچھے اور بہترین تحریروں کے لئے فالو کریں شکریہ

Tags: Heart Touching Stories, Aurat ki Izzat, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Women Respect, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Islamic Stories, Story of Europian Girls, Ashfaq Ahmed ki Kahani

Monday, 21 October 2019

طلاق کیوں ہوئی...؟؟؟ || معاشرے کی ایک تلخ حقیقت

یہ تحریر آج کل کی تمام لڑکیوں کے نام😭پڑھو😭 اور سمجھو

ایک بات میں نے بطورِ خاص نوٹ کی کہ محترمہ کے ہاتھ میں ڈیڑھ لاکھ والا آئی فون تھا


پچھلے سال کی بات ہے، ایک دوست گول بازار سرگودها شاپنگ کر رہے تھے۔ ان کی بیٹی کا فون آیا کہ ابو آپ کے داماد نے مجھے فارغ کر دیا، علیحدگی دے دی ہے۔ فوراً آئیں اور مجھے لے جائیں۔

بیٹی کی یہ بات سن کر وه دوست بائیک دوڑاتا گھر کو واپس چلا۔ ان ہی سوچوں میں گم ہوگا کہ راستے میں چلتی بائیک پر ہارٹ اٹیک ہوا، بجلی کے پول سے ٹکرایا اور وہیں سڑک پر جان دے دی۔

بظاہر یہ بات اتنی سی ہے کہ ہارٹ اٹیک ہوا اور بنده فوت ہوگیا۔ وقت مقرر تھا۔ لیکن نہیں۔ میں نہیں مانتا۔

کوئی بات تو تھی جو ایک اچهے بھلے صحت مند آدمی کی اچانک موت کا باعث بنی۔ اس میں کہیں نہ کہیں تو انسانی غلطی نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہوگا۔

علیحدگی کے کچھ دن بعد میں بچی سے ملا اور پوچھا کہ بی بی تین بچوں کے ساتھ خاوند نے جو تمھیں چھوڑ دیا، کیا بات ہوئی تھی؟ تمھارا فرسٹ کزن بھی تو تھا۔

اس بیٹی نے جو بھی وجہ بتائی وه مجھے سمجھ نہیں آئی۔ الزامات کی ایک لمبی فہرست تھی۔ لیکن وه صاحبزادی مجھے کہیں بھی یہ نہ بتاسکی کہ معاملات کی بہتری کے لیے خود اس نے کیا کیا؟

ایک بات میں نے بطورِ خاص نوٹ کی کہ محترمہ کے ہاتھ میں ڈیڑھ لاکھ والا آئی فون تھا۔

مرحوم دوست میرے رشتے دار بھی تھے۔ ان کا سابقہ داماد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک محترم ادارے میں سکول ٹیچر ہے۔ چند دن بعد میں بطور خاص اسے ملنے گیا۔ پوچھا کہ جوان تم جو اتنی انتہا پر پہنچے، اپنے بچے تک چھوڑ دیے، کیا تمھیں بچے پیارے نہ تھے؟ ہوا کیا تھا؟ کس بات نے تمھیں اتنا مجبور کیا؟

وه بولا کہ سر، میری دو سالیاں ہیں۔ دونوں انتہائی امیر گھروں میں بیاہی ہوئی، کوٹھیوں کاروں اور نوکر چاکروں والی۔ جب بھی میری بیوی اپنی بہنوں کو مل کر آتی، میرے گھر جھگڑا شروع ہوجاتا۔ مجھے بات بات پر غریبی کے طعنے ملتے۔ میں چالیس ہزار ماہانہ کا ملازم ہوں۔ جتنا کرسکتا تھا انتہائی حد تک کیا، لیکن اب بات برداشت سے باہر تھی۔

اس نے مزید کہا کہ مجھے اپنی بیوی بہت پیاری تھی۔ میرے پاس تین ہزار والا موبائل ہے، بیگم کو میں نے آئی فون لے کر دیا۔ پھر کار کا مطالبہ ہوا۔ میں نے بنک لون سے کار لے کر دی۔ پرانا فریج بیچ کر قسطوں پر فل سائز نیا فرج لیا۔ پھر اے سی کا کہا گیا۔ وہ لے کر دیا۔ اس سب کے باوجود طعنے ہی طعنے۔ میں اپنی نظر میں ہی حقیر بن چکا تھا۔

علیحدگی والے ماه بجلی کا بل تیس ہزار آگیا۔ چالیس ہزار کل تنخواه میں سے میں کیا کرتا؟ دس ہزار تو صرف ماہانہ دودھ کا بل بنتا تھا۔ اوپر سے بیگم کی فضول کی باتیں۔ میں پہلے ہی بیگم کی پچھلی لامحدود خواہشات سے تنگ تھا۔ بالکل ناک میں دم آچکا تھا۔ فوری جھگڑا اس بل پر ہوا اور بات اس انتہا تک پہنچی۔ یہ بات کرتے کرتے وه رو پڑا۔

ساری بات سن کر میں نے سر جھکا لیا اور گھر واپس آگیا۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو، اپنے بیٹوں کو، کم سے کم خواہشات کے ساتھ زنده رہنا بتایا ہے۔

اس وقت وه علیحدگی یافتہ بیٹی اپنے شادی شده بھائی کے تین مرلہ مکان کے اوپر والے ایک کمرے میں ره رہی ہے۔ جب بجلی بند ہو تو اس کمرے میں بنده ایسے ہوجاتا ہے جیسے بھٹی میں دانے بھنتے ہیں۔ نہ اوپر واش روم ہے اور نہ کچن۔ بچے نیچے جائیں تو ان کی ممانی تھپٹر لگاکر اوپر واپس بھگا دیتی ہے۔

گوری چٹی اور سرخ و سفید چھبیس سالہ لڑکی صرف ایک سال میں پچاس سال کی اماں نظر آتی ہے۔ سنا ہے کسی پرائیویٹ سکول میں نو دس ہزار کی نوکری بھی شروع کر دی ہے۔

Tags: Heart Touching Stories, Tallaq Yafta Larki, Dil Ko Choo Lene Wali Tehreer, Tallaq Kyun Hui, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Mother Stories, Maan ki Kahani, Story of a Mom, Story of Son

Saturday, 14 September 2019

رشتوں کی پہچان || بدکردار عورت اور مرد کی کہانی

یہ ناقابل یقین دلخراش منظر دیکھ کر اس نے مزید کچھ نہیں کیا

بدکردار عورت اور مرد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ رشتوں کی پہچان بھول جاتے ہیں ایک روز ایک شوہر جب باہر سے اپنے گھر میں داخل ہوا، تو دیکھتا ہے، کہ اس کی بیوی زار و قطار رو رہی ہے، رونے کا جب سبب دریافت کیا، تو بیوی کہنے لگی: ہمارے گھر کے پیڑ پر بیٹھنے والے پرندے بسا اوقات مجھے بلا شرعی حجاب اور بغیر پردے کے دیکھتے ہیں، تو مجھے ڈر لگتا ہے، کہ کہیں اس میں اللہ کی معصیت اور گناہ کا ارتکاب نہ ہوتا ہو، جس کا اگر مجھے ایک دن اللہ کے سامنے حساب دینا پڑ گیا، تو میں کیا جواب دوں گی؟ بس یہی سوچ کر اور اسی خوف سے میں رو رہی ہوں۔

بظاہر انتہائی نیک اور دینی جذبات سے لبریز بیوی کا یہ جواب سن کر شوہر بہت خوش ہوا، اور اس کی اس درجہ پاکدامنی، پاکیزگی اور جذبئہ خدا ترسی کو دیکھتے ہوئے عالمِ بے خودی میں فوراً اس کا ماتھا چوما، اور اسی وقت کلہاڑی لے کر گھر کے پیڑ کو کاٹ کر باہر پھینک دیا۔

اس واقعہ کے ایک ہی ہفتہ بعد ایک روز وہ شوہر اپنے کام سے جلدی فارغ ہو کر اپنے نارمل وقت سے کچھ پہلے ہی گھر آ گیا، تو کیا دیکھتا ہے، کہ اس کی وہی "پارسا" بیوی اپنے عاشق کی بانہوں میں لپٹی ہوئی سو رہی ہے!

یہ ناقابل یقین دلخراش منظر دیکھ کر اس نے مزید کچھ نہیں کیا، بس گھر سے اپنی بعض ضروریات کا سامان لیا، اور اپنا گھر اور بستی چھوڑ کر نکل پڑا، اور چلتے چلتے ایک دوسرے شہر تک پہنچ گیا، جو بادشاہ وقت کا اپنا شہر تھا، وہاں دیکھا کہ امیر شہر کے محل کے ارد گرد کافی لوگ جمع ہیں، یہ منظر دیکھ کر جب اس نے اس بھیڑ کا سبب پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: کہ بادشاہ سلامت کی تجوری چوری ہو گئی ہے۔

اسی دوران اس بھیڑ سے ایک ایسے شخص کا گزر ہوا، جو پورے پیر کے بجائے صرف اپنی انگلیوں کے اطراف کے بَل بہت سنبھل سنبھل اور بچا بچا کر انتہائی احتیاط سے چل رہا تھا، اس آدمی نے جب اس شخص کے بارے میں پوچھا: کہ یہ صاحب کون ہیں؟
تو لوگوں نے بتایا: کہ اس شہر کے دینی گرو، مذہبی پیشوا اور شیخ صاحب ہیں، جو اپنی انگلیوں کے بَلْ محض اس لئے چلتے ہیں، تاکہ ان کے پاؤں کے نیچے کوئی چیونٹی آکر کہیں دب نہ جائے، اور اس کی موت ہو جائے، اور اس طرح وہ نا حق قتل نفس کے عظیم گناہ کے مرتکب نہ ٹھہر جائیں۔

شیخ صاحب کے متعلق لوگوں کا یہ جواب سن کر اس آدمی نے فوراً اور برجستہ کہا: اللہ کی قسم! مجھے بادشاہ کے خزانہ اور تجوری کے چور کا پتہ حتمی مل گیا ہے، مجھے اسی وقت بادشاہ کے پاس لے چلو، بادشاہ کے پاس پہنچ کر ابتدائی حال چال کے بعد اس آدمی نے عرض کیا: بادشاہ سلامت! آپ کی تجوری کا چور کوئی اور نہیں، بلکہ آپ کے اس شہر کے دینی گرو اور مذہبی پیشوا شیخ صاحب ہی ہیں، یہ سن کر بادشاہ کو سخت حیرت وتعجب ہوا، جس پر وہ آدمی مزید یقین دہانی کراتے ہوئے کہنے لگا: کہ اگر مجھے اس الزام میں جھوٹا پایا جائے، تو میرا خون معاف، اور اگر اس الزام کے بدلے میری گردن بھی اڑا دی جائے، تو بھی میں اس کیلئے مکمل طور پرتیار ہوں۔

آخر کار بادشاہ نے اس کا اتنا پختہ جواب سن کر شیخ صاحب کو فوراً دربار میں حاضر کرنے کا حکم دے دیا، انہیں دربار میں لایا گیا، پوچھ تاچھ اور تحقیق کے بعد آخر کار شیخ صاحب نے اپنا جرم قبول، اور تجوری چوری کا اعتراف کر ہی لیا۔

شیخ کے اقرار جرم کے بعد بادشاہ اس شخص سے کہنے لگا: تم یہ بتاو کہ آخر تم کو کیسے پتہ چلا، کہ چور یہی شیخ صاحب ہیں، جب کہ وہ اپنی ظاہری شکل وصورت اور وضع قطع سے انتہائی نیک، صالح، اور پارسا دِ کھتے ہیں؟

بادشاہ کے اس سوال کا جو قیمتی جواب اس آدمی نے اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں دیا، وہ جواب یہ تھا کہ۔۔۔
جب بھی اظہار پارسائی میں مبالغہ آرائی ہو رہی ہو، اور جہاں بھی نیکی اور فضائل کے بیان میں حد سے زیادہ دکھاوا نظر آئے، تو آپ فوراً سمجھ لیں، کہ وہاں ضرور کسی بڑے جرم اور گناہ کو چھپانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

:سچ ہے کہ صرف
لباسِ پارسائی سے شرافت آ نہیں سکتی
شرافت نفس میں ہوگی تو انساں پارسا ہوگا
کردار کو کپڑوں میں چھپا رکھا ہے تو نے
کپڑوں کی طرح تو تیرا کردار نہیں ہے

اللہ رب العزت ہم سب کو ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی سنوارنے کی نیک توفیق، نیز ہمیشہ سچی پارسائی اور حقیقی تقویٰ نصیب فرمائے۔
!!...آمین یا رب العالمین

Tags: Love Story, Mohabbat ki Dastaan, Bad Kirdar Bewi, Bad Kirdar Aurat, Bad Kirdar Larki, Bad Kirdar Mard, Chalak Bewi, Parsa Bewi, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Bewi ki Chalaki, Husband Story, Wife Story, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Rishtoon ki Pehchan, Bewafa Bewi

Friday, 13 September 2019

دل کو چھولینے والی کہانی ❤ وہ دونوں کلاس فیلو تھے

دل کو چھولینے والی کہانی ❤ محبت کی لازوال داستان

وہ دونوں کلاس فیلو تھے‘ لڑکی پوری یونیورسٹی میں خوبصورت تھی اور لڑکا تمام لڑکوں میں وجیہہ‘ دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے اور آخر میں دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے‘ معاملہ رومیو جولیٹ جیسا تھا‘ دونوں کے خاندان ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے‘ شادی مشکل تھی‘ دونوں باعزت گھرانوں کے سعادت مند بچے تھے‘ یہ بھاگ کر شادی کیلئے تیار نہیں تھے اور خاندان اپنے اپنے شملے نیچے نہیں لا رہے تھے لہٰذا معاملہ پھنس گیا۔

لڑکے اور لڑکی نے پوری زندگی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ یہ دونوں اپنے اپنے گھر میں رہتے رہے‘ پانچ سال دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہوا‘ والدین شادی کی کوشش کرتے مگر یہ انکار کرتے رہے یہاں تک کہ لڑکی کے والدین ہار مان گئے‘ لڑکی نے لڑکے کو فون کیا‘ لڑکے نے فون اٹھایا‘ لڑکی کی صرف ہیلو سنی اور کہا ”مجھے بتاؤ‘ میں نے بارات لے کر کب آنا ہے“ دونوں کے والدین ملے‘ شادی ہوئی اور دونوں نے اپنا گھر آباد کر لیا۔

لڑکے نے کاروبار شروع کیا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور وہ خوش حال ہو گئے‘ یہ شادی بیس سال چلی‘ اس دوران تین بچے ہو گئے‘ خاتون کو اپنے حسن‘ اپنی خوبصورتی پر بہت ناز تھا‘ وہ تھی بھی ناز کے قابل‘ وہ 45 سال اور تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود جوان لگتی تھی‘ خاوند بھی روز اول کی طرح اس پر فریفتہ تھا‘ وہ روز جی بھر کر بیوی کی تعریف کرتا تھا لیکن پھر ایک دن وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔

خاتون کی جلد پر چھوٹی سی گلٹی نکلی اور یہ گلٹی پھیلتے پھیلتے ناسور بن گئی‘ ڈاکٹروں کو دکھایا‘ ٹیسٹ ہوئے‘ پتہ چلا خاتون جلد کے کینسر میں مبتلا ہے‘ خاوند صرف خاوند نہیں تھا وہ اپنی بیوی کا ماہی وال تھا‘ وہ اپنی ران چیر کر بیوی کو کباب بنا کر کھلا سکتا تھا‘ وہ بیوی کو لے کر دنیا جہاں کے ڈاکٹروں کے پاس گیا‘ ایک کلینک سے دوسرے کلینک‘ ایک ڈاکٹر سے دوسرے ڈاکٹر اور ایک ملک سے دوسرے ملک‘ وہ دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا‘ خاتون کا جسم گلٹیوں سے بھر گیا‘ یہ مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی کہ ایک دن دوسری آفت آن پڑی‘ خاوند کی گاڑی ٹرک سے ٹکرائی اور وہ شدید زخمی ہو گیا‘ وہ ہسپتال پہنچا‘ پتہ چلا وہ بینائی کی نعمت سے محروم ہو چکا ہے‘ آپ اس کے بعد المیہ ملاحظہ کیجئے‘ شہر کا خوبصورت ترین جوڑا‘ بدقسمتی‘ بیوی جلد کے کینسر کی مریض اور خاوند آنکھوں سے اندھا۔

لوگ انہیں دیکھتے تھے تو کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے لیکن یہ دونوں اس کے باوجود مطمئن تھے‘ یہ روز صبح باغ میں واک بھی کرتے تھے‘ سینما بھی جاتے تھے اور ریستورانوں میں کھانا بھی کھاتے تھے‘ بیوی خاوند کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ ساتھ چلتی تھی‘ وہ اسے گائیڈ کرتی تھی اور خاوند بیوی کی گائیڈینس پر چلتا جاتا تھا‘ یہ سلسلہ بھی کئی ماہ تک چلتا رہالیکن پھر بیوی نے خاوند سے ایک عجیب مطالبہ کر دیا‘ وہ اکیلی سوئٹزرلینڈ جانا چاہتی تھی‘ خاوند نے وجہ پوچھی‘ بیوی کا کہنا تھا وہ دس پندرہ دن اکیلی رہنا چاہتی ہے۔

خاوند نے اس کے ساتھ جانے کی ضد کی لیکن وہ نہ مانی‘ اصرار اور انکار بڑھتا رہا یہاں تک کہ آخر میں وہی ہوا جو ایسے معاملات میں ہوتا ہے‘ خاوند نے بیوی کو اجازت دے دی۔ بیوی سوئٹزر لینڈ چلی گئی‘ خاوند نے وہ دس دن بڑی مشکل سے گزارے‘ وہ شادی کے 20 برسوں میں ایک دن کیلئے بھی اکیلے نہیں ہوئے تھے‘ یہ ان کی جدائی کے پہلے دس دن تھے‘ یہ دس دن پہاڑ تھے‘ خاوند اس پہاڑ تلے سسکتا رہا‘ دس دن بعد بیوی نے آنا تھا‘ خاوند ائیرپورٹ پہنچا لیکن بیوی نہ آئی۔

خاوند کو دنیا ڈولتی ہوئی محسوس ہوئی‘ وہ سارا دن بیوی کو فون کرتا رہا‘ بیوی سے رابطہ نہ ہوا لیکن شام کو بیوی کا خط آ گیا‘ وہ خط ان کے بیٹے نے پڑھا‘ وہ خط صرف خط نہیں تھا‘ وہ ایک تحریری قیامت تھی اور پورا خاندان اس تحریری قیامت کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں اس قیامت کی طرف آنے سے قبل آپ کو دنیا کی ایک خوفناک لیکن دلچسپ حقیقت بتاتا چلوں۔ دنیا میں ایسے بے شمار سینٹرز ہیں جہاں آپ اپنی مرضی سے مر سکتے ہیں‘ یہ سینٹرزلاعلاج مریضوں کیلئے بنائے گئے ہیں‘

دنیا میں یہ لوگ جب امراض کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جاتے ہیں اور یہ چین کی موت مرنا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان سینٹرز میں جاتے ہیں‘ اپنی میڈیکل رپورٹس دکھاتے ہیں‘ ڈاکٹرز ان کی حالت اور رپورٹ چیک کرتے ہیں‘ ان سے یہ حلف نامہ لیتے ہیں ”ہم اپنی مرضی سے دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں“ ان کی مرضی سے ان کی موت کا دن اور وقت طے کرتے ہیں‘ ان کی آخری خواہش پوری کرتے ہیں اور پھر انہیں زہر کا ٹیکہ لگا کر دنیا سے رخصت کر دیتے ہیں‘ یہ عمل طبی زبان میں یوتھانیزیا یعنی آسان موت کہلاتا ہے‘ یہ دنیا کے 7 ممالک میں قانونی ہے اور اتنے ہی ملکوں میں اس کی اجازت کیلئے بحث چل رہی ہے۔

سوئٹزر لینڈ بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں یوتھانیزیا کو قانونی سٹیٹس حاصل ہے‘ زیورخ شہرمیں یوتھانیزیا کا سینٹر بنا ہے‘ یہ سینٹر انتہائی خوبصورت جگہ پر قائم ہے‘ سینٹر کے کمرے پہاڑوں‘ آب شاروں اور جھیلوں کے کنارے بنائے گئے ہیں‘ مریض بیڈ پر لیٹ کر زندگی کی آخری صبحیں اور شامیں دیکھتے ہیں اور آخر میں مہربان ڈاکٹروں اور نرسوں کے ہاتھوں میں زندگی کی سرحد پار کر جاتے ہیں‘ وہ خاتون بھی یوتھانیزیا کیلئے سوئٹزر لینڈ گئی تھی‘ وہ کینسر کا دکھ برداشت نہیں کر پا رہی تھی چنانچہ اس نے آسان موت لینے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ زیورخ گئی۔

زندگی کے آخری دس دن گزارے اور عین اس وقت اپنے لئے موت کا تعین کر لیا جب اس کی فلائیٹ نے وطن کی مٹی کو چھونا تھا‘ ادھر فلائیٹ اتری اور ادھر وہ زندگی کی سرحد پار کر گئی‘ خاتون کا آخری خط بیٹے کے ہاتھ میں تھا‘ وہ سسکیاں لے لے کر خط پڑھ رہا تھا اور خاوند سر جھکا کر اپنی بیگم کا ایک ایک لفظ سن رہاتھا۔بیوی نے اپنی پوری زندگی کا احاطہ کیا‘ اس نے بتایا‘ وہ جب پہلی بار یونیورسٹی میں ملے تھے تو اس نے کیا محسوس کیا تھا‘ وہ یونیورسٹی میں لڑتی کیوں تھی اور وہ کون سا دن تھا جب لڑتے لڑتے اسے اس سے محبت ہو گئی تھی‘ اس نے فراق کے وہ پانچ سال کیسے گزارے تھے اور اس نے شادی کے بعد اپنے بچوں کو ملازموں کے رحم وکرم پر کیوں چھوڑے رکھا تھا ”میں اپنی محبت کو تقسیم نہیں کر سکتی تھی‘ میں تمہارا حصہ اپنے بچوں کو بھی نہیں دے سکتی تھی“۔

اس نے 20 سال کی ازدواجی زندگی کس مسرت اور سرشاری میں گزاری اور پھر جب اسے پہلی گلٹی نکلی تو اس نے کیا محسوس کیا‘ وہ خود کو روز بروز بدصورت ہوتا ہوا دیکھتی تھی تو اس کے دل پر کیا گزرتی تھی‘ وہ قدرت کا یہ فیصلہ بھی سہتی چلی گئی لیکن پھر عجیب واقعہ ہوا ”آپ نے پہلے بچے بورڈنگ سکول میں بھیج دیئے‘ میں جانتی تھی آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا‘ آپ نہیں چاہتے تھے میرے بچے مجھے اس حالت میں دیکھیں اور پھر میں ان کی آنکھوں میں اپنے لئے ترس دیکھوں۔

پھر آپ ملازموں کو رشوت دیتے تھے اور وہ روزانہ کوئی نہ کوئی شیشہ توڑ دیتے تھے‘ میں آپ سے شیشے لگوانے کا کہتی تھی‘ آپ ہنس کر ٹال جاتے تھے یوں آہستہ آہستہ گھر سے سارے آئینے غائب ہو گئے‘ آپ نہیں چاہتے تھے میں اپنی آنکھوں سے اپنی بدصورتی دیکھوں‘ بات اگر یہاں تک رہتی تو بھی میں برداشت کر جاتی لیکن آپ نے آخر میں عجیب کام کیا‘ آپ نے ایکسیڈنٹ کیا اور خود کو اندھا ڈکلیئر کر دیا‘ میں جانتی ہوں آپ کی آنکھیں ٹھیک ہیں‘ آپ مسلسل چھ ماہ سے اندھے پن کی ایکٹنگ کر رہے ہیں اور میں یہ بھی جانتی ہوں آپ نے ایسا کیوں کیا؟

آپ نہیں چاہتے تھے میرے دل میں ایک لمحے کیلئے بھی یہ خیال آئے میں آپ کو بدصورت دکھائی دے رہی ہوں یا میں آپ کی آنکھوں میں اپنی بدصورتی کو پڑھ لوں چنانچہ آپ اندھے بن گئے‘ آپ کا یہ مصنوعی اندھا پن محبت کی انتہا تھی‘ میں یہ انتہا برداشت نہ کر سکی چنانچہ میں نے دنیا سے رخصت ہونے کا فیصلہ کر لیا‘ میں دنیا سے جا رہی ہوں‘ آپ اب پلیز اندھے پن کی یہ ایکٹنگ بند کر دیں‘ یہ خط پکڑیں اور خود پڑھنا شروع کر دیں“ یہاں پہنچ کر بیٹے کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

باپ نے اس کے ہاتھ سے خط لیا اور اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ”آپ پلیز میرے بعد اپنا خیال رکھئے گا‘ سارے تولیے الماری میں رکھے ہیں‘ میں درزی کو پانچ سال کے کپڑے دے آئی ہوں‘ وہ سال میں دس جوڑے سی کر دے جائے گا‘ آپ نے وہ سارے کپڑے پھٹنے گھسنے تک پہننے ہیں‘ دانت چیک کراتے رہا کریں اور صبح کی سیر کبھی نہیں بھولنی اور آخری بات چڑیوں کو روز دانا ڈالنا ہے اور میری بلیوں کا ہمیشہ خیال رکھئے...❤۔

Tags: Love Story, Mohabbat ki Dastaan, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Bewi ki Mout, Husband Story, Wife Story, Real Love Story, Read Stories Online, Free Online Stories, Latest Urdu Stories, Best Urdu Stories, New Urdu Stories, Anokhi Mohabbat, Husband and Wife Stories

Thursday, 12 September 2019

جب بیوی نے شوہر کا یہ رویہ دیکھا تو اسی وقت طلاق کا مطالبہ کردیا

جب بیوی نے شوہر کا یہ رویہ دیکھا تو اسی وقت طلاق کا مطالبہ کردیا

ایک لڑکی کی شادی ہوئی
شادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سا تھال لئے کمرے میں داخل ہوا، کھانے سے بڑی اشتھا انگیز خوشبو آرہی تھی۔

کہنے لگا: آؤ کھانا کھاتے ہیں۔

بیوی بولی: میں نے دیکھا ہے تمہاری والدہ نے بھی کھانا نہیں کھایا، ان کو بھی بلا لو، پھر مل کر کھاتے ہیں۔

شوہر نے کہا: وہ سوگئی ہوں گی، انہیں چھوڑو ہم دونوں کھاتے ہیں۔

بیوی اصرار کرتی رہی پر وہ اِسی بات پر مُصِر رہا کہ امی کو رہنے دو، جب بیوی نے شوہر کا یہ رویہ دیکھا تو اسی وقت طلاق کا مطالبہ کردیا۔۔۔

شوہر بڑا حیران ہوا اسکے مطالبے پر، اُس نے بڑا سمجھایا، لیکن وہ اپنی بات پہ ڈٹی رہی یہاں تک کہ طلاق ہوگئی۔

دونوں الگ ہو گئے پھر دونوں نے دوسری شادیاں کرلیں تیس / پنتیس سال گزر گئے عورت کے بیٹے ہوئے بہت محبت کرنے والے، ماں کا خیال رکھنے والے، بہت آسودہ حال تھی وہ، اس نے ارادہ کیا کہ حج کرنا چاھیے۔ سفر کے دوران اس کے بیٹے اس سےکسی ملکہ کی طرح پیش آرہے تھے۔ پاؤں زمین پر لگنے نہ دیتے تھے، صحرائی سفر تھا، راستے میں ایک آدمی پر نظر پڑی، جوبہت بُری حالت میں بھوکا پیاسا بال کھچڑی، کپڑے پرانے۔

اس عورت نےبیٹوں سے کہا: جاؤ دیکھو! کون مسافر ہے، اسے اٹھاؤ، ہاتھ منہ دھلا کر، کھانا کھلاؤ، پانی پلاؤ، چنانچہ بیٹے گئے ماں نے جیسا کہا تھا ویسا کیا۔

عورت کی جب اس پر نظر پڑی تو جان گئی وہ اِسکا پہلا شوہر تھا۔
کہنے لگی یہ کیا کیا، وقت نے تمارے ساتھ؟

بولا میری اولاد نے میرے ساتھ بھلائی نہیں کی۔

عورت کہنے لگی: کیوں کرتی کہ تم نے والدین کے ساتھ بُرا سلوک کیا تھا۔ میں اسی دن جان گئی تھی کہ تم ماں باپ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔

اسی لئے میں ڈر گئی کہ کل کو میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔

!...یہ دیکھو آج میں کہاں ہوں اور تم کہاں

ماں باپ کے ساتھ بُرا سلوک اللہ کی نافرمانی ہے،اگر اپنا بڑھاپا ہم شاندار گزارنا چاہتے ہیں تو والدین کے ساتھ شاندار سلوک کیجیے، کیوں کہ یہ ایسا عمل ہے کہ جس کا بدلہ دنیا میں ہی دیدیا جاتا ہے خواہ اچھا ہو، یا بُرا۔

Tags: Jaisa Karo Ge Waisa Bharo Gay, Waldain se Bartao, Adlay ka Badla, Urdu Stories, Read Urdu Stories, Urdu Kahani, Read Stories Online, Sabaq Amoz Kahaniyaan, Sachi Kahani, Bewi ki Tallaq, Husband Story, Wife Story, Husband & Wife Stories